آج کے جدید دور میں سمارٹ اسکیلز (Smart Scales) فٹنس کے شوقین افراد کی زندگی کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔ لوگ محض اپنا وزن دیکھنے کے بجائے یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کے جسم میں چربی، مسلز اور پانی کی مقدار کتنی ہے۔ لیکن کیا یہ سمارٹ وزنی مشینیں واقعی آپ کے جسم کی چربی کا درست اندازہ لگاتی ہیں یا یہ محض ایک سائنسی نظر کا دھوکہ ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ آلات ایک خاص ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہیں جو ظاہری طور پر بہت جدید لگتی ہے، مگر اس کے نتائج اکثر گمراہ کن ہو سکتے ہیں۔
زیادہ تر سمارٹ اسکیلز بائیو الیکٹرک امپیڈینس انالیسس (BIA) نامی ٹیکنالوجی کا سہارا لیتے ہیں۔ جب آپ ننگے پاؤں اسکیل پر کھڑے ہوتے ہیں، تو یہ مشین آپ کے جسم میں ایک بہت ہی ہلکا اور بے ضرر الیکٹرک کرنٹ بھیجتی ہے۔
یہ الیکٹرک سگنل پانی اور مسلز میں سے تیزی سے گزر جاتا ہے کیونکہ ان میں پانی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جبکہ چربی (Fat) اس سگنل کی راہ میں رکاوٹ یعنی امپیڈینس پیدا کرتی ہے۔ مشین اس رکاوٹ کی پیمائش کر کے ایک ریاضیاتی فارمولے کے ذریعے آپ کے باڈی فیٹ کی شرح کا اندازہ لگاتی ہے۔
اگرچہ یہ طریقہ کاغذ پر بہت زبردست لگتا ہے، لیکن عملی طور پر سمارٹ اسکیل کے نتائج میں کافی اتار چڑھاؤ آتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ آپ کے جسم میں پانی کی مقدار ہے۔
اگر آپ نے ابھی بہت سا پانی پیا ہے، تو اسکیل سمجھے گا کہ آپ کے جسم میں مسلز زیادہ ہیں اور چربی کم ہے۔ اس کے برعکس، صبح اٹھتے ہی یا ورزش کے بعد جب جسم میں پانی کی کمی ہوتی ہے، تو مشین چربی کی مقدار زیادہ دکھا سکتی ہے۔
عام گھریلو اسکیلز صرف آپ کے پاؤں کے ذریعے کرنٹ بھیجتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ الیکٹرک سگنل صرف آپ کی ٹانگوں اور نچلے دھڑ سے گزر کر واپس آ جاتا ہے۔ یہ مشین آپ کے پیٹ یا ہاتھوں کی چربی کا صرف اندازہ ہی لگا سکتی ہے، اصل پیمائش نہیں۔
روزانہ کے اعداد و شمار پر پریشان ہونے کے بجائے ہفتہ وار اوسط دیکھنا زیادہ دانشمندی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ یہ آلات بالکل بے کار ہیں۔ اگر آپ درست طریقہ استعمال کریں تو یہ آپ کی فٹنس پیشرفت کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
کیا آپ اپنے فٹنس سفر کے لیے سمارٹ اسکیل استعمال کرتے ہیں؟ کیا آپ کو اس کے نتائج قابل اعتماد لگتے ہیں؟ نیچے تبصروں میں اپنی رائے کا اظہار کریں!









