موجودہ دور میں سمارٹ فون کی بیٹری چند منٹوں میں فل چارج کرنا ایک بہترین سہولت بن چکا ہے، لیکن کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ یہ رفتار آپ کو ایک خاص کمپنی کا محتاج بنا رہی ہے؟ آج کی فاسٹ چارجنگ ٹیکنالوجی صرف ایک تکنیکی پیشرفت نہیں بلکہ موبائل کمپنیوں کا ایک ایسا چالاک بزنس ماڈل ہے جو صارفین کو برانڈ لاک ان (Brand Lock-in) کے جال میں پھنساتا ہے۔ جب آپ ایک نیا فون خریدتے ہیں تو اس کی تیز ترین چارجنگ سپیڈ حاصل کرنے کے لیے آپ کو اسی برانڈ کا مخصوص اور مہنگا چارجر خریدنا پڑتا ہے۔
مارکیٹ میں موجود مختلف سمارٹ فون برانڈز دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے فون 120 واٹ یا 200 واٹ تک کی چارجنگ کو سپورٹ کرتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ رفتار صرف ان کے اپنے تیار کردہ چارجر اور کیبل کے ساتھ ہی ممکن ہوتی ہے۔ اگر آپ کے پاس ایک اعلیٰ معیار کا عالمگیر (Universal) چارجر موجود بھی ہو، تب بھی آپ کا فون اس پر محض 15 یا 18 واٹ کی رفتار سے چارج ہوگا۔
کمپنیاں عالمگیر ٹیکنالوجی اپنانے کے بجائے اپنے ذاتی فاسٹ چارجنگ پروٹوکولز کو فروغ دے کر صارفین کو اپنے ہی ایکو سسٹم کا پابند بناتی ہیں۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں USB Power Delivery (USB-PD) ایک ایسا عالمگیر معیار ہے جو تمام ڈیوائسز کے لیے یکساں کام کر سکتا ہے۔ تاہم، بیشتر سمارٹ فون ساز ادارے اپنے منفرد سافٹ ویئر اور ہارڈویئر لاکس استعمال کرتے ہیں۔ اس کی وجہ سے:
فون کے ڈبے سے چارجر کو ہٹاتے وقت یہ دلیل دی گئی تھی کہ اس سے برقی کچرے (E-waste) میں کمی آئے گی اور ماحول کا تحفظ ہوگا۔ لیکن جب صارفین کو تیز رفتار چارجنگ کے لیے الگ سے مہنگا چارجر خریدنا پڑتا ہے، تو وہ الگ سے پلاسٹک پیکجنگ میں گھر آتا ہے۔ اس عمل نے نہ صرف ماحولیاتی دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے بلکہ فاسٹ چارجنگ ٹیکنالوجی کو برانڈز کے لیے منافع بخش ذریعہ بنا دیا ہے۔
مستقبل میں اگر حکومتیں اور ریگولیٹری ادارے فاسٹ چارجنگ ٹیکنالوجی کے لیے یکساں اوپن سٹینڈرڈز لازمی قرار نہیں دیتے، تو صارفین اسی طرح گرانی اور محدود اختیارات کا شکار رہیں گے۔
کیا آپ بھی فاسٹ چارجنگ کے اس برانڈ لاک ان سے متاثر ہوئے ہیں؟ اپنی رائے کا اظہار نیچے کمنٹس میں ضرور کریں۔









