کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ جب آپ گاڑی کے ڈیش بورڈ پر فون لگا کر گوگل میپس یا ایپل میپس استعمال کرتے ہیں، تو آپ کا موبائل فون غیر معمولی طور پر شدید گرم ہو جاتا ہے؟ یہ محض ایک اتفاق نہیں بلکہ اس کے پیچھے جدید ٹیکنالوجی کی کچھ بنیادی وجوہات اور سائنسی عوامل کارفرما ہیں۔ سمارٹ فونز میں جی پی ایس کا مسلسل استعمال، پروسیسر پر پڑنے والا اضافی بوجھ اور ڈیش بورڈ پر براہ راست پڑنے والی سورج کی روشنی مل کر ڈیوائس کا درجہ حرارت انتہائی تیز رفتار سے بڑھا دیتے ہیں۔ یہ مسئلہ نہ صرف فون کی کارکردگی کو متاثر کرتا ہے بلکہ بیٹری کے لیے بھی انتہائی نقصان دہ ہے۔
جب آپ گاڑی میں سفر کے دوران نیویگیشن ایپ آن کرتے ہیں، تو آپ کا فون بیک وقت کئی پیچیدہ کام انجام دے رہا ہوتا ہے۔ جی پی ایس چپ سیٹ کو ہر چند سیکنڈ بعد سیٹلائٹ سے رابطہ قائم کرنا ہوتا ہے تاکہ آپ کی موجودہ لوکیشن کا درست تعین کیا جا سکےMonster processing۔ اس کے ساتھ ساتھ، فون کی اسکرین مسلسل آن رہتی ہے اور سکرین پر نقشے کی لائیو رینڈرنگ ہو رہی ہوتی ہے۔ یہ تمام افعال مل کر پروسیسر کو اپنی مکمل صلاحیت پر کام کرنے پر مجبور کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں فون کی حرارت میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔
نیویگیشن اور مسلسل چارجنگ کا یکجا ہونا فون کی بیٹری کو شدید گرم کرنے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔
حرارت کے اس مسئلے میں دوسرا بڑا عنصر آپ کی گاڑی کا اندرونی ماحول ہے۔ جب فون کو ونڈ اسکرین کے قریب ڈیش بورڈ ہولڈر پر لگایا جاتا ہے، تو شیشے سے چھن کر آنے والی سورج کی شعاعیں سیدھی ڈیوائس پر پڑتی ہیں۔ گاڑی کے اندر کا درجہ حرارت باہر کے مقابلے میں پہلے ہی زیادہ ہوتا ہے، اور جب فون پر براہ راست دھوپ پڑتی ہے تو اس کا ایلومینیم یا گلاس فریم ایک اوون کی طرح کام کرنے لگتا ہے، جس سے فون اوور ہیٹ ہو کر بند بھی ہو سکتا ہے۔
اگر آپ چاہتے ہیں کہ طویل سفر کے دوران آپ کا فون گرم نہ ہو اور کارکردگی بھی بہترین رہے، تو درج ذیل تدابیر اختیار کریں:
فون کو کبھی بھی ڈیش بورڈ یا ونڈ اسکرین پر براہ راست نہ لگائیں۔ اس کے بجائے ایسا موبائل ہولڈر استعمال کریں جو گاڑی کے اے سی وینٹ (AC Vent) پر لگ جائے۔ اس سے ایئر کنڈیشنر کی ٹھنڈی ہوا فون کو مسلسل ٹھنڈا رکھے گی۔
کیا آپ کو بھی گاڑی میں جی پی ایس استعمال کرتے ہوئے اس مسئلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟ اپنے تجربات اور مفید مشورے نیچے کمنٹس میں ضرور شیئر کریں!









